رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
قرابت داری میں حلال عمل۔
زمانہٴ قدیم سے معاشرہ میں ایک مرد اور ایک عورت کا غیر شرعی ملنا منفی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس رشتے کو بے حیائی اور فحاشہ قرار دیا ہے۔ تاہم جب یہ رشتہ معاشرتی اور شرعی اصولوں کے مطابق شادی کی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ واقعہ قرابت داری میں حلال عمل کے وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی معاشرے میں عزت، وقار اور پاکیزگی کا باعث بنتا ہے۔
خداوندِ ذوالجلال نے اس رشتے کو پاکدامن رکھنے کے لیے سخت ضابطے نازل فرمائے، جن میں خون (نسل) اور دودھ (رضاعت) کا براہ راست تعلق نمایاں ہے۔ یعنی جس مرد وَعورت کے درمیان خون یا دودھ کا سیدھا رشتہ ہو، ان کے درمیان نکاح ہرگز جائز نہیں۔ یہ مسئلہ ذیل میں تفصیل سے بیان ہے۔
نکاح کے لِیے حلال عورتیں۔
حرام عمل باب کے سبق حرام نکاح میں جِن عورتوں کے ساتھ مومِن کا نکاح حرام قرار دِیا گیا ہے۔ اُن کے علاوہ باقی تمام عورتوں کے ساتھ نِکاح حلال ہے۔ بشرطیکہ مطلوبہ عورتیں مومن (مسلم) ہوں۔ اور ان کو ان کے مہر ادا کیے جائیں۔
وہ آزاد مسلمان عورتیں جن سے کوئی رشتے داری نہیں ہے، سب کے ساتھ نکاح حلال ہے۔ رشتے داری میں خالہ، ماموں، پھوپھی اور چچا کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح حلال ہے، کیونکہ ان رشتوں میں اصِل خون باقی نہیں رہتا۔ البتہ اگر بچپن میں کسی چاچی، پھوپی، مومانی یا خالہ نے ایک بھی بوند دودھ رضاعت کرایا ہو تو اُن کی بیٹیوں یا بیٹوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔
نوٹ:- مرد اور عورت کے درمیان شادی میں عمر کا فرق شرط نہیں۔ مرد اور عورت دونوں کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ضروری ہے۔ لہٰذا جبراً لڑکیوں کی شادی کرنا یا چھوٹے بچّوں کی شادیاں کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں۔
اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِۚ اُولٰٓٮِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴿۲۶﴾
Q-24:26ناپاک عورتیں ناپاک مَردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مَرد ناپاک عورتوں کے لِیے ہیں ۔ اور پاک عورتیں پاک مَردوں کے لِیے ہیں اور پاک مَرد پاک عورتوں کے لِیے ہیں۔ یہ (پاک لوگ) اُن کی باتوں سے پاک ہیں۔ ان کے لیے بَخشِش اور عِزّت والا رِزق ہے ﴿۲۶﴾
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ وَمَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ ﴿۵۰﴾
Q-33:50اے نبی! ہم نے تمہارے لیے تمہاری وہ بیویاں حلال کر دیں جنہیں تم نے ان کے مہر دیے، اور وہ (لونڈیاں) بھی حلال کی جو اللہ نے مالِ غنیمت کے طور پر تمہیں عطا فرمائیں، اور تمہارے چچا کی بیٹیاں، اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور ماموں اور خالہ کی بیٹیاں بھی نِکاح کے لِیے حلال کی۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا ؕ ﴿۱۹﴾
Q-04:19اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارِث بنو۔
اہل کتاب عورت سے نکاح حلال۔
اللہ تعالیٰ نے تمام پاکیزہ چیزیں مسلمانوں کے لیے حلال کی ہیں، حتیٰ کہ اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی نکاح کے لیے جائز ہیں۔ یعنی مومن یہودی اور عیسائی عورت سے بھی نکاح حلال ہے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ ان سے نکاح نیک نیت کے ساتھ کیا جائے، نہ کہ بدکاری یا پوشیدہ تعلق قائم کرنے کی غرض سے۔ نیز اُنہیں شریعت کے مطابق مہر بھی ادا کیا جائے۔
اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَطَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ وَطَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَلَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ ؕ وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۵﴾
Q-05:05آج تُمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں۔ اور اُن لوگوں کا کھانا بھی حلال کیا گیا، جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور تمہارا کھانا اُن کے لیے حلال کیا گیا۔ اور پاک دامن عورتوں میں سے مومن عورتیں، اور وہ پاک دامن عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی حلال کی گئی۔ جبکہ تم ان عورتوں کو نکاح میں لانے کے لیے مہر ادا کرو۔ نہ کہ بدکاری کے مرتکب ہو اور نہ پوشیدہ رشتے بناو۔ اور جو ایمان کا انکار کرے، اس کا عمل ضائع ہو گیا۔ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔
**********